18 مارچ 2010 - 20:30

کراچی میں محرم کے مرکزی جلوس میں خود کش دھماکہ۔.فقہ جعفریہ کا تین روزہ سوگ کا اعلان .کالعدم تحریک طالبان نے کراچی دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

تازہ اطلاعات ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان نے کراچی دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق تحریک کے کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے ادارے کو بتایا کہ دھماکا تحریک طالبان نے کیا ہے۔اس خبر کی مزید تفصیل کا انتظار ہے۔ سانحہ کراچی کے بعد آگ سے متاثرہ مارکیٹ میں کولنگ کا عمل جاری ہے۔ امدادی کارروائیوں کے باعث ایم اے جناح روڈ جامعہ کلاتھ مارکیٹ سے ٹاور تک بند کردیا گیا ہے۔ بولٹن مارکیٹ اور اس سے ملحقہ مارکیٹ میں لگی آگ پر آج تیسرے روز بھی مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔کراچی اور حیدر آباد کی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ آگ بجھانے کیلئے کولنگ کا عمل جاری ہے۔ ادھر انتظامیہ نے جامعہ کلاتھ مارکیٹ سے ٹاور تک ایم اے جناح روڈ بند کردیا ہے۔ شہریوں سے متبادل راستہ استعمال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔شیعہ علماء کونسل پاکستان نے سنی رہبر کونسل کی جمعہ کو کی جانے والی ہڑتال کی حمایت کردی۔شیعہ علماء کونسل کا کہنا ہے کہ جلوسوں کی تعداد کم کرنا دہشت گردی روکنے کا حل نہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ایم کیو ایم نے بھی سنی رہبر کونسل کی جانب سے کی جانے والی جمعے کی ہڑتال کی حمایت کی تھی۔ علما کرام سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا تھاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لئے علمابھر پور کردار ادا کریں.سندھ ہائی کورٹ میں یوم عاشورہ پردھماکے اور اس کے بعد آتشزدگی کی عدالتی تحقیقات کیلئے آئینی درخواست دائر کردی گئی۔ درخواست اقبال کاظمی کی جانب سے دائر کی گئی ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دھماکا اور اسکے بعد دکانوں کو نذرآتش کرنا سازش کا حصہ ہے۔ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود یہ دھماکہ ہوا۔درخواست میں کہا گیا کہ ایم اے جناح روڈ پر ہر مقام پر سی سی کیمرے موجود ہیں ان سے لی گئی فوٹیج منظرعام پر لائی جائیں۔ شرپسندوں کو بے نقاب کیا جائے درخواست میں وفاقی و صوبائی حکومت، رینجرز، پولیس اور دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی بم دھماکے کے اہم شواہد مل گئے ہیں، جلد ماسٹر مائنڈ تک پہنچ جائیں گے۔ٹھٹہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سانحہ کراچی میں منصوبہ بندی کے ذریعے اربوں روپے کا نقصان کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کی فوٹیج کے ذریعے دہشتگردوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی دو کروڑ انسانوں کا شہر ہے، دہشتگردوں کو تلاش کرنا ناممکن نہیں تاہم مشکل ضرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ بم دھماکے کے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر صورتحال کو کنٹرول کرلیا گیا تھا۔ واقعے پر سیکورٹی کی کمزوری کے پہلو پر بھی تفتیش کی جارہی ہے۔کراچی کے تجارتی مرکزبولٹن مارکیٹ میں اکتیس گھنٹے بعد بھی دکانیں جل رہی ہیں، نقصان کا تخمینہ چالیس ارب روپے تک جا پہنچا۔ کراچی میں پیر کے روز یوم عاشور کے جلوس پرخود کش حملے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کے دوران سینکڑوں دکانوں، دو تھانوں اور درجنوں گاڑیوں کو نذرآتش کر دیا ۔ایم اے جناح روڈ پر لائٹ ہاوٴس، ڈینسو ہال مارکیٹ، پیپر مارکیٹ، اکبر مارکیٹ، فیروز مارکیٹ اور بولٹن مارکیٹ میں تقریبا ڈھائی ہزاردکانوں کو آگ لگا دی گئی جس سے تاجروں کواربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اس کے ساتھ ہی درجنوں گاڑیاں بھی نذر آتش کی گئیں۔بولٹن مارکیٹ میں اکتیس گھنٹے بعد بھی آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔جو لوگ کل تک خیرات بانٹتے اور زکوہ دیتے تھے آج فٹ پاتھ پر آگئے ہیں اور وہ دس محرم کی شام نوحہ کناں تھے کہ ان کا کیا قصور ہے،کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آیا۔مشتعل افراد نے نیشنل آرمز کمپنی کوبھی لوٹنے کے بعد آگ لگادی۔ لائٹ ہاوٴس اور میٹھا در تھانہ مکمل طور پر نذر آتش کر دیا گیا۔کس کا کتنا نقصان ہوا اتنی جلدی اس بات کا تعین ممکن نہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تیس سے چالیس ارب روپے کا نقصان تو ضرور ہوا ہو گا۔ حکومت سندھ نے تاجروں اور دکانداروں کے نقصان کے مالی ازالے کا وعدہ کرتے ہوئے محکمہ داخلہ سندھ کو ہدایت کی ہے کہ اس بات کا تخمینہ لگایا جائے کہ تاجروں کا کتنا نقصان ہوا۔کراچی خود کش حملے کے شہدا کی نماز جنازہ میں شریک علامہ حسن ظفر نقوی کی طبیعت خطرے سے باہر قرار دے دی گئی ہےپاکستان کے نجی ٹی وی جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں علامہ نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔علامہ حسن ظفر نقوی کو اس وقت ہنگامی حالت میں ایمبولنس کے ذریعے اسپتال پہنچایا گیا جب جنازے کے دوران انہوں نے سینے میں شدید تکلیف کی شکایت کی ۔قومی ادارہ برائے امراض قلب میں موجود ڈاکٹر محبوب نے  بتایا کہ اب ان کی طبیعت خطرے سے باہر ہے۔آئی جی سندھ سلطان صلاح الدین بابر خٹک نے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد فائرنگ اور مارکیٹس جلانے کی تحقیقات میں ویڈیو ریکارڈنگ سے مدد لی جارہی ہے۔ان خیالات اظہار آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک نے گزشتہ روزدھماکے میں شہید ہونیوالے ٹریفک پولیس اہلکار مشرف بیگ کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کی تحقیقات کیلئے دو ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور یہ دونوں انوسٹی گیشن ٹیمیں ایس ایس پی راجہ عمر خطاب اور ڈی آئی جی جنوبی غلام نبی میمن کی سربراہی میں کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد کی جانے والی ہنگامہ آرائی کے حوالے سے ہمارے پاس بعض ایسے کلپس ہیں کہ ان کو دیکھ کر ذمے داران تک پہنچا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دھماکے کے بعد مشتعل افراد کو پولیس روکنے کی کوشش کرتی تو حالات اور خراب ہوجاتے۔انہوں نے کہا کہ دکانیں جلانے میں جو آتش گیر مادہ استعمال ہوا تھا اسکی کیمیکل ایگزامنیشن کروائی جارہی ہے،اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔کراچی میں یوم عاشور کے جلوس میں ہونیوالے دھماکے کے نتیجہ میں شہید ہونیوالے 6 افراد کی نماز جنازہ محفل شاہِ خراساں میں ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ مولانا شیخ صلاح الدین نے پڑھائی۔اس موقع پر علما نے سوگواروں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے حکومت سے حملہ آوروں اور ان کے منصوبہ سازوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔علما نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سخت سکیورٹی کے دعوے اس اہم ترین جلوس کے موقع پر کہاں گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ املاک کی آتش زنی میں باقاعدہ منصوبہ سازی شامل تھی، جس کے بعد منظم انداز میں کارروائی کی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ جلوس میں عزادار جلاؤ گھیراوکا سامان لے کر نہیں چلتے۔ علما نے عوام سے اپیل کی کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور پرامن رہ کر سوگ منائیں۔ادھر جعفریہ الائنس نے کہا ہے کہ یوم عاشور کے مرکزی جلوس میں شریک کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں اور شہید ہونے والے ایک شخص کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔حملے کے خلاف آج یوم سوگ منایا جارہا ہے۔واضح رہے کہ سانحہ کراچی میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 43 ہوگئی ہے ۔گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کراچی میں پیر کو عاشورہ محرم کے جلوس پر ہونے والے خودکش حملے کے افسوسناک واقعے پر منگل کو منائے جانے والے یوم سوگ کے باعث کراچی کے تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اس افسوسناک واقعے پر شہریوں سے منگل کو یوم سوگ منانے کی اپیل کی ہے۔دریں اثناء اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے بھی یوم سوگ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز سے گاڑیاں بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔فقہ جعفریہ کے علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا ہے کہ کراچی میں ہونے والا دھماکاخودکش نہیں تھابلکہ واقعہ سیکورٹی ایجنسی کی غفلت سے پیش آیا، آج ہڑتال اور تین روزہ سوگ منایا جائے گا۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ دھماکے کو خودکش قرار دے کر جان چھڑائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دھماکا خودکش نہیں تھابلکہ یہ افسوسناک واقعہ سیکورٹی ایجنسی کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا۔ انہوں دھماکے کے خلاف آج ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ تین روز تک سوگ کا اعلان کیا ہے۔ علامہ کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان میں سے جن کی لاشیں مسخ ہوگئیں ہیں انہیں رات کو سپرد خاک کیا جا رہا ہے۔کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر دھماکے کے بعد شہر کے متعدد مقامات پر ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں پانچ سو سے زائد دکانیں اور متعدد گاڑیاں بھی نذر آتش کردی گئیں ۔مشتعل افراد نے لائٹ ہاؤس اور میٹھادر تھانے کو آگ لگادی جبکہ قصبہ کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ لائٹ ہاؤس کی لنڈا مارکیٹ، بولٹن مارکیٹ، میڈیسن مارکیٹ ، پیپر مارکیٹ سمیت مختلف کاروباری مراکز میں آگ بجھانے کا کام جاری ہے تاہم آگ بجھانے والے عملے اور گاڑیوں کی کمی کے باعث متعلقہ حکام کو مشکلات سامنا ہے۔اطلاعات کے مطابق مبینہ خود کش کا سر مل گیا ہے اور اسکی شناخت کرنے والے کے لیئے حکومت نے 10لاکھ روپےانعام کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب کراچی کی بولٹن مارکیٹ کی پلاسٹک کی دوکانوں کو نزر آتش کر دیا گیا ہے۔کراچی میں کل منگل کو یوم سوگ کا اعلان کیا ہے اور اے این پی کے مقامی رہنما شاہید سید نے کہا ہے منگل کو شہر میں ہر قسم کی ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔ادھر متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں عاشور کے مرکزی جلوس پر حملے کی شدید مذمت کی ہے،کل یوم سوگ منانے کا اعلان کردیا گیا۔ ایم اے جناح روڈ پر محرم الحرام کے مرکزی جلوس پر خود کش حملے کے بعد رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ دہشت گرد کراچی کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ سیکورٹی اداروں کو ان کا کام کرنے دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لئے کام کیا۔الطاف حسین نے کہا عوام انتہاپسندوں کی حمایت کرنے والوں کا بائیکاٹ کریں اور گلی محلوں میں چوکیداری نظام کو موثر بنائیں۔ پاکستان بھر میں عاشور محرم آج پیر کو منایا گیا اورلاہور،کراچی،پشاور،اسلام آباد،کوئٹہ میں عاشور کے جلوس برآمد ہو کر اپنے روایتی راستوں سے گشت کرتے ہوئے مقررہ مقامات پر اختتام پذیر کی طرف رواں دواں ہیں۔لاہور میں نثار حویلی موچی دروازے سے برآمد ہونے والے ذوالجناح کا مرکزی جلوس روایتی راستوں سے گزرتا ہوا اپنی منزل پر اختتام پذیر ہوا۔جلوس محلہ شیعاں ، چوہٹہ مفتی باقر،چونا منڈی، پانی والا تالاب سے گزرتا ہوادوپہر کے وقت رنگ محل پہنچا۔ نماز ظہر ادا کرنے کے بعد جلوس ٹبی سٹی ، تحصیل بازار ، بھاٹی گیٹ سے ہوتا ہوا نماز مغرب کے وقت کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا جہاں شام غریباں منعقد ہوئی۔یوم عاشور پر آج ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کی طرح کراچی میں بھی شبیہ علم و ذوالجناح کے جلوس برآمدکیے گئے۔ اس سے قبل نو محرم کی مناسبت سے ماتمی جلوس برآمد کیے گئے۔ مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوکراپنی روایتی گزرگاہوں سے ہوتا ہواحسینیہ ایرانیاں کھارادر پرختم ہوا۔ی